تازہ ترین خبریں
آل سعود کی جانب سے ایرانیوں کو حج سے محروم کئے جانے پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مذمتی بیان

سعودیہ کی جانب سے حاجیوں کے ساتھ ہر سال حج کے موسم میں کئے جانے والے ناروا سلوک اور ایرانی باشندوں کو اس سال حج سے محروم کئے جانے پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک مذمتی بیان جاری کرکے سعودیہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔
اس بیان میں آیا ہے کہ حج جو ایک دینی فریضہ ہے جس سے کافروں اور مشرکوں کے علاوہ کسی کو محروم نہیں کیا جا سکتا، حرمین شریفین تمام مسلمانوں کے لیے امن کے مقامات ہیں ،حج و عمرہ کی ادائیگی میں دنیا بھر کے مسلمان یکسان و برابر ہیں اور بجائے اس کے کہ حرمین شریفین پر قابض سعودی حکام حج پر جانے والے تمام مسلمانوں کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کریں ،افسوس کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام میں اپنے ہاتھ رنگین کر رہے ہیں۔
اس بیانیہ میں سعودی حکام کی اسلام مخالف اور اس نازیبا حرکت کی مذمت کرتے ہوئے تاکید کی گئی ہے کہ سعودی حکام گذشتہ سالوں میں حجاج کی جانوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ آج علاقے میں فرعون کی طرح مسلمانوں کا خون پی رہے ہیں۔ پانچ سال سے بحرین کے مظلوم عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں جبکہ یمن میں بے گناہ مسلمانوں کے خون میں نہا رہے ہیں اور پھر خود کو حرمین شریفین کا متولی بھی سمجھتے ہیں کیا عالم اسلام اس بربریت کو نہیں دیکھ رہا ہے؟
واضح رہے کہ آل سعود کی طرف سے مسلسل کئی سالوں سے حج کے دوران حاجیوں کو ایذا رسانی اور پھر گزشتہ سال سعودیہ کی نالائقی کی وجہ سے رونما ہوئے دو انتہائی دردناک واقعات کے بعد اس سال ایرانی حکومت نے اس صورت میں اپنے شہریوں کو حج پر بھیجے کا فیصلہ کیا کہ سعودی حکومت ان کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اٹھائے۔ اس سلسلے میں کئی مہینوں سے مسلسل مذاکرات کے بعد بجائے اس کے کہ سعودی حکومت گذشتہ واقعات کے بابت اپنے غلطی کا اقرار کرے اور عالم اسلام سے معافی مانگے الٹا فریضہ حج کی ادائگی میں حاجیوں کے لیے شرائط کا تعین کر رہی ہے جیسا کہ سعودیہ نے ایران کے لیے گیارہ شرائط رکھے اگر وہ انہیں قبول نہ کریں تو ایرانی حاجیوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی مذاکراتکاروں کی جانب سے سعودیہ کے شرائط قبول نہ کئے جانے کے بعد اس سال ایرانی باشندوں کے لیے حج کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا۔



