ائمہ اطهارتازہ ترین خبریں
نفسیاتی آئینہ داری اور انسانی اصلاح!

ڈاکٹر غلام مرتضی جعفری
رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں: «المُؤمِنُ مِرآةُ المُؤمِنِ؛ مومن، مومن کا آئینہ ہوتا ہے»
(بحارالانوار، ج71، ص270)۔
حدیثِ مبارکہ میں آئینہ کی جن صفات کو مؤمن کے لیے نمونہ بنایا گیا ہے، وہ بنیادی طور پر “نصیحت، اخلاص، سچائی، رازداری اور اصلاح” کے گرد گھومتی ہیں.
اس حدیث مبارکہ سے مندرجہ ذیل تربیتی نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں:
۱. سچائی (Truthfulness) آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا؛ لہذا مؤمن کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے اور حق بیانی سے کام لینا چاہیے؛
۲. رازداری (Secrecy/Confidentiality) آئینہ بات منہ پر کہتا ہے، پیٹھ پیچھے نہیں؛ لہذا مؤمن کو چاہیے کہ بھائی کی غلطی اسی کے سامنے یعنی تنہائی میں بیان کرے، غیبت ہرگز نہ کرے؛
۳. بے باکی و عدم مرعوبیت (Fearlessness) آئینہ امیر و غریب سب کو یکساں حقیقت دکھاتا ہے؛ لہذا مؤمن کو کسی کی شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیرحق کہنا چاہیے؛
۴. عدم مبالغہ (No Exaggeration) آئینہ چیزوں کو ان کی اصل مقدار و کیفیت میں ہی دکھاتا ہے؛ لہذا مؤمن نہ تو عیب بڑھا کر بتائے اور نہ کم کر کے؛
۵. عدم کینہ (No Grudge) آئینہ کے دل میں کچھ نہیں رہتا؛ لہذا مؤمن نصیحت کرنے کے بعد دل میں بھائی کے خلاف کسی قسم کا بغض و کینہ نہ رکھے؛
۶. موقع شناسی (Appropriate Timing) آئینہ تب بولتا ہے؛ جب سامنے کھڑے ہوں؛ لہذا مؤمن اسی وقت بولے جب سننے والا موجود ہو، بے موقع نصیحت نہ کرے؛
۷. حسن و قبح کا تذکرہ (Mentioning Virtues & Flaws) آئینہ صرف عیب نہیں؛ بلکہ خوبصورتی بھی دکھاتا ہے؛ لہذا مؤمن صرف تنقید نہ کرے؛ بلکہ خوبیوں کا بھی اعتراف کرے؛
۸. اصلاح کا جذبہ (Desire for Reform) آئینہ کا مقصد صرف اصلاح ہوتا ہے؛ لہذا مؤمن کا مقصد بھائی کی اصلاح ہو، اسے شرمندہ کرنا مقصد نہ ہو؛
۹. صفائے باطن (Inner Purity) آئینہ خود صاف ہوتا ہے؛ تب عکس دکھاتا ہے؛ لہذا مؤمن کو پہلے اپنے باطن کو صاف کرنا ہوگا؛
۱۰. استقامت (Steadfastness) آئینہ ٹوٹ کر بھی اپنی اصلیت نہیں کھوتا؛ لہذا مؤمن مصائب میں بھی خیرخواہی سے باز نہ آئے؛
۱۱. بے غرضی (Selflessness) آئینہ کسی لالچ سے اصلاح نہیں کرتا؛ لہذا مؤمن کی نصیحت خالصۃً للہ ہو؛
۱۲. تحمل (Patience) آئینہ بار بار دیکھنے پر نہیں اکتاتا؛ مؤمن کو بھی بار بار سمجھانے کا حوصلہ رکھنا چاہیے؛
13۔ آئینہ کسی کی عیب اور دبے اپنے پاس محفوظ نہیں رکھتا؛ جیسے ہی سامنے سے بندہ ہٹ جاتاہے؛ اس کی عیب بھی غائب ہوجاتی ہے؛ لہذا عیب صرف عیبدار کو بتائی جائے؛
14۔ پردہ پوشی: آئینہ خاموشی سے عیب بتاتا ہے، اعلان نہیں کرتا۔ نبی کریم کا طریقہ یہی تھا کہ کسی کی غلطی بیان کرنا ہوتواکیلے میں بیان فرماتے؛
15۔ حساسیت: آئینہ بہت نازک ہوتا ہے، ذرا سی بے توجہی سے ٹوٹ جاتا ہے، رشتے بھی ایسے ہی ہیں؛ اپنا اور اپنے رشتوں کا خیال رکھئے؛
16۔ قبولیتِ حقیقت: جس طرح آئینہ میں عیب دیکھ کر انسان فوراً اسے دور کرتا ہے، اسی طرح مؤمن کو چاہیے کہ وہ نصیحت کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے۔
17۔ فیس بک یا دیگر سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس پر سرعام نصیحت کے بجائے؛ شخصی طور پر میسج کرکے پہلے خوبصورتی پھرعیب بتائیے۔
حدیثِ “المؤمن مرآة المؤمن” دراصل “آئینہ داری کی اخلاقیات” کا مکمل ضابطہ ہے۔ آئینہ جہاں سچا ہے، وہاں رازدار بھی ہے۔ جہاں بے باک ہے، وہاں مبالغہ سے پاک بھی ہے۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ بھائی کےلیے ایسا صاف، شفاف اور مخلص آئینہ بنے جس میں سامنے والا اپنا حقیقی عکس دیکھ کر اپنی اصلاح کر سکے۔
Islamic_psychology#



